ایران میں ایک ووٹ کی کیا قدروقیمت ہے؟

از احمد صدری
02 مئ 2008
چھاپئے
ای میل
شکاگو، ایلی نواۓ: ایران کی مذہبی ریاست میں جب تک لوگوں کے دل جمہوریت کے لئے دھڑکتے رہیں گے، عام انتخابات کے ذریعے تبدیلی آنے کی امید قائم رہے گی۔ لیکن آخر حالات کب تک یونہی رہیں گے؟

ہو سکتا ہے ایران ایک لبرل ڈیموکریسی نہ ہو لیکن یہ بہرحال 1989 کے بعد سے دنیا میں جابجا قائم ہونے والی جعلی جمہوریتوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ مُلاّئیت کے ساتھ جڑی ہوئی نمائندہ جمہوریت، اسلامی جمہوریہ ایران ورقہ، قسطنطنیہ اور جنیوا سے لے کر ایتھنز، فلاڈیلفیا اور ماسکو تک پھیلے ہوئے سیاسی نظاموں کے ہجوم میں ایک منفرد مثال ہے۔

چودہ مارچ 2008 کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات نے 2005 کے صدارتی انتخابات کے تند و تیزانداز کو مزید آگے بڑھایا ہے اور اصلاح پسندوں اور 'اصول پرستوں' ، دونوں کیمپوں میں باغی گروپ پیدا ہورہے ہیں۔

صدر احمدی نجاد کا اصول پرست اتحاد اپنے تین استدلالی قدامت پرست ساتھیوں تہران کے میئر محمد باقر غالباف، ایٹمی معاملات پر گفت و شنید کرنے والے علی لاریجانی اور انقلابی دستوں کے کمانڈر محسن رضائی پر مشتمل طاقتور اتحاد ِ ثلاثہ کو اپنے ساتھ رکھنے میں ناکام رہا۔ اصلاح پسند سابق صدر خاتمی کے پکّے پیروکاروں اور سابق سپیکر پارلیمنٹ مہدی قرابی کی نیشنل کانفیڈنس پارٹی کو توڑنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

اصلاح پسندوں کی اس اچھی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروپ آزاد ارکان اور استدلالی قدامت پرستوں کے ساتھ مل کر صدر احمدی نجاد کی طرف سے اقتصادی رجحانات ، انتظامی انداز اور خارجہ پالیسی کی قطبیت کی کوششوں پر مٹی ڈال سکتا ہے۔

ایران کی مُلاّئیت سالانہ جمہوری انتخابات کی دھاندلیوں کو برحق قرار دینے پر چلتی ہے۔ اسلامی پالیسی کے جمہوری پہلو کو یقیناً نظر میں رکھا جانا ہوتا ہے۔ ایک مذہبی سپریم کورٹ ( سرپرست کونسل) پہلے امیدواروں کو پرکھتی ہے اور ہر الیکشن کے بعد ووٹنگ میں بے قاعدگیوں کو قانونی جواز مہیا کرتی ہے۔ الیکشن کے دوران حکومتی ملیشیا باسج مہم چلا کر لوگوں کو بتاتی ہے کہ مذہبی سپریم لیڈر کی پسند کیا ہے۔
حالیہ انتخابات کے دوران پارلیمنٹ کی 290 میں سے ایک تہائی سے زائد نشستوں پر مضبوط اصلاح پسند امیدواروں کو نااہل قرار دے کر ان کی جگہ ایسے کمزور امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی جن کے جیتنے کے امکانات بہت کم تھے۔ انتخابات کے بعد اصلاح پسندوں کے دونوں دھڑوں نے نتائج پر اعتراض اور احتجاج کیا۔

سوال یہ ہے کہ آخر ایرانی ایسے انتخابات میں ووٹ ہی کیوں ڈالتے ہیں جن میں دھاندلی ہوتی ہے۔ جواب بہت آسان ہے۔ ووٹ ڈالنا ایک معقول انتخاب ہے : شرکت کرنے کے فوائد اس کی قیمت سے زیادہ ہیں۔ اگر ہم طریقہ کار کی بات کریں تو الیکشن میں شامل ہونا مذہب پرستوں کو مکمل طور پر غالب آنے سے روکنے کا باعث بنتا، شفافیت کو بڑھاتا اور چھوٹے سے طبقہ اشرافیہ کے سیاسی نظام کے نچلے درجوں تک رابطے کو یقینی بناتا ہے۔

یہ درست ہے کہ باہر سے کسی اچانک اپ سیٹ کا ( حقیقی ) امکان ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ یہاں کے نظام کو اس نہج پر تبدیل کردیا گیا کہ اس سے مذہبی عناصر کو ہی فائدہ پہنچتا ہے لیکن اگر کبھی قسمت نے ذرا بھی ساتھ دیا تو مذہب پرستوں کی رکاوٹوں کا صفایا ہو جائے گا اور ایسی تاریخی کامیابیاں ملیں گی جیسے محمد خاتمی کو 1997 اور 2001 میں ملی تھیں۔

ایران میں کسی متبادل کی کمیابی بھی ووٹنگ پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک ایسی قوم جو ابھی ایک نسل پیشتر خطرات سے پُر راستے پر سفر کرکے آئی ہو، کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ حکومت کے خلاف انقلاب بپا کرے گی، خارج از امکان ہے۔ نہ ہی انتخابات کا بائکاٹ کرکے نظام کو غیرقانونی یا بے جواز قرار دیا جاسکتاہے۔ ایسا کرنے کے لئے باقاعدہ مہم چلانا پڑے گی جس کی ایران میں کبھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مختصر یہ کہ ایرانیوں کا خیال ہے کہ انتخابات میں حصہ لے کر وہ اس نظام کو برحق ہونے کی دمک عطا کرتے ہیں، بھلے یہ وقتی طور پر ہی کیوں نہ ہو۔

لیکن دیرپا پالیسی کیا ہونی چاہئے؟

ووٹنگ کے موجودہ رجحانات جمہوریت اور ملاّئیت کے اکٹھا رہنے کے موجودہ نظام کی تائید نہیں کرتے۔ فطری جمہوری عمل کٹڑ مذہبی طرز ِ حکومت کو ختم کردیتا ہے جو سخت سے سخت تر قانونی اوربالائے قانون اقدامات اور 'الیکشن انجینیئرنگ' پر چلتی ہے۔ اس طرح کی دخل اندازیاں بڑے پیمانے پر عوامی شمولیت کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں جو اس وقت تقریباً 55 فیصد ہے۔

شہروں میں جہاں ووٹ ڈالنا فرقہ وارانہ یکجہتی کے اظہار یا مقامی منصوبوں کے لئے رقوم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سیاسی فعل ہے، وہاں ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب 30 فیصد تک ہے۔ یہ درست ہے کہ جتنے کم لوگ ووٹ ڈالیں گے اس کا فائدہ دائیں بازو والوں کو ہوگا جن کے حامیوں کی تعداد ملک کی مجموعی آبادی کا 20 فیصد ہے۔

لیکن حالیہ انتخابات کے نتائج بتاتے ہیں کہ شہروں میں قدامت پرستوں کی حامیوں کی تعداد مزید کم ہورہی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے ایران کے ووٹر موجودہ نظام سے بتدریج اکتا رہے ہیں اور جمہوریت اور ملاّ ئیت کے درمیان قائم یہ توازن زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔ یہ بھی خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران میں قانونی جواز کا بحران پیدا ہوجائے۔ یہ ایک ایسی قوم پر عائد عظیم ذمہ داری ہے جس نے محض تین عشرے قبل اسی طرح کی ایک طاقتور لیکن غیر مقبول حکومت کا دھڑن تختہ کیا تھا۔

منطق اور حالیہ علاقائی تجربات بتاتے ہیں کہ مشرق ِ وسطٰی میں پائیدارسیاسی تبدیلی باہر سے مسلّط نہیں کی جاسکتی۔ اسلامی جمہوریہ کی بقا کے دو ممکنہ مناظر ہیں لیکن دونوں ہی بہت آہستہ آہستہ ایک صورت سے دوسری میں تبدیل ہونے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک منظر تو یہ ہے کہ اصلاح پسند چھا جائیں گے اور خاتمی عہد کے تجربات سے سبق سیکھ کر زور و شور سے جمہوری تبدیلیاں لائیں گے۔ دوسری صورت جمہوری عمل کے بتدریج اپنے منطقی انجام کو پہنچنے اور پھر اس پر قائم رہنے کی ہے جس میں مذہبی اقتدار صرف نمائشی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ یہ صورت کسی ایسے سپریم لیڈر کی دانش سے جنم لے گی جس پر یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ حکومت مذہب اور ریاست میں اتحاد کی علامت ہے جو بنیادی عدم استحکام سے بہتر ہے۔

###

٭ احمد صدری لیک فارسٹ کالج میں سوشیالوجی کے پروفیسر اور اسلامک ورلڈ سٹڈیز میں گورٹر چیئر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے اور اسے درج ذیل ویب سائٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے:
www.commongroundnews.org

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز)، 02 مئ، 2008
اس مضمون کی اشاعت کے لئے کاپی رائٹ کی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"کامن گراونڈ نیوز سروس ۔شرق اوسط کے مضامین یہ امید دلاتے ہیں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو تحمل اوربقائے باہمی کی ضرورت اور اچھے مستقبل کی امید کے ساتھ مسائل کے حل پر کا م کرتے ہیں."

- کرسٹوفر پیٹن، سابق کمشنر برائے خارجہ تعلقات ،یورپی کمیشن
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
اماموں کی درآمد
ایران— کیا واقعی 'برائی کا محور' ہے؟
پاکستان- امریکہ شراکت کا ازسر ِنو تعین کرنے کی ضرورت
دبئی سے دوحہ تک
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

اماموں کی درآمد از آفتاب احمد ملک
ایران— کیا واقعی 'برائی کا محور' ہے؟ از ایلن فرانسس
پاکستان- امریکہ شراکت کا ازسر ِنو تعین کرنے کی ضرورت از عارف رفیق
دبئی سے دوحہ تک از جون ڈیفٹرائس