ایران کے تاریخی حوادث اور اجتماعی سبق

از احمد صدری
23 مئ 2008
چھاپئے
ای میل
لیک فارسٹ، الّی نوئیس: " کیوں؟ اوہ، آخر میں ہی کیوں؟" فارسی شاعری کا سب سے عام مرکزی خیال ہے اور ستاروں کی گردش کا شکوہ اور قدرت کی نامہربانی کا گلہ کرنا ایرانی آرٹ کی عمومی قسم ہے۔ ایران کی تاریخ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں جو اس رویّے کی تصدیق کرتی ہیں۔ ایران کے بادشاہ دارا کا بیٹا شاہ زکسس شاید وہ پہلاشخص ہے جوہمیں اس وقت قدرت سے شکایت کرتا نظر آتا ہےجب پانچویں صدی قبل ِ مسیح میں میگنیشیا کے ساحل پر اس کے جنگی بحری بیڑے کو طوفان نے ڈبو دیا ۔ اس کے گیارہ سو سال بعد فورچونا بھی اسی طرح شاکی تھا جب سلطنت ِ فارس کو عرب مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں شکست سے دوچار ہونا پڑا کیونکہ تیز ہوا کا رُخ مسلمانوں سے ایرانیوں کی جانب تھا۔ لگتا تھا کہ شدید طوفان اور ریت اڑاتی آندھیاں دشمنوں کی مدد کر رہی تھیں اور قدرت ایرانیوں کی ذرا سی لغزش بھی معاف کرنے کو تیار نہیں تھی۔ اور پھر شاہ سے ذرا سی چُوک ہوئی اور منگولوں نے مغرب کی طرف پیش قدمی روک کر جنوب کا رُخ کیا اورایران کی تیرہویں صدی کی تہذیب بلا مبالغہ ملیا میٹ کرکے رکھ دی۔

اس سے بھی بڑھ کر ناانصافی کی بات یہ ہے کہ جب بھی ایرنی لیڈر صحیح طور پر عمل کرتے ہیں وہ ایسے قانون کے جھانسے میں آجاتے ہیں جس کے عواقب ان کی خواہش کے برعکس ہوتے ہیں۔ تقریباً تیس سال قبل ایران کے پہلے بعد از انقلاب وزیرِ اعظم مہدی بازرگان نے ایک مناسب سیکولر اور جمہوری آئین بنانے کے لئے آیت اللہ خمینی سے اجازت حاصل کی۔

لیکن بازرگان جو ایک پرانے لبرل رجائیت پسند رہنما تھے اکیلے کچھ نہ کرسکے۔ ان کا اصرار تھا کہ آئین کی توثیق جمہوری طور پر منتخب ہونےوالے ماہرین کی اسمبلی کو کرنی چاہئے۔ بازرگان اس وقت بہت مایوس ہوئے جب دائیں بازو کے ایک گروپ نے منتخب ادارے پر غلبہ حاصل کرکے جمہوری آئین کو نیم ملائیت پر مبنی نظام کی دستاویز بنا دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں موجود نشیب و فراز کی بڑی وجہ اس کا سقم زدہ آئین ہے جس میں جمہوری طور پر منتخب ہو نے والے رہنماؤں کی بجائے مذہبی زعمأ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ حقیقی جمہوری جذبات کی جڑ ایران کا غیر جمہوری آئین ایرانی تاریخ کے حوادث کی اہمیت کا ثبوت ہے۔

تمام تر شکایات کے باوجود جب کبھی ستارے موافقت میں صف آرا ہو جائیں تو وہ اس لمحے کا بھرپور فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ یہ آیت اللہ خمینی کا سیاسی ائیڈیل ازم ہی تھا جس کی بنا پر یہ واضح ہونے کے باوجود کہ وہ کبھی جیت نہیں سکیں گے، ایرانیوں نے کئی سال تک عراق کے ساتھ جنگ جاری رکھی۔ آیت اللہ خمینی "عالمی تکبّر" کی علامت صدام کے ساتھ گفت و شنید کے خلاف تھے۔ خوش قسمتی سے ان کا انتقال 80 کے عشرے میں چلنے والی دس سالہ ایران عراق جنگ کے دوران نہیں ہوا۔ یہ طلسماتی رہنما اتنی دیر ضرور زندہ رہے کہ "زہر کا پیالہ" خالی ہوگیا ( زہر کے پیالے کی شاعرانہ ترکیب انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 598 کی منظوری کے لئے استعمال کی تھی) جس کے نتیجے میں اگست 1988 میں جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔

زہر کا پیالہ پی کر آیت اللہ آخری انجام کی اخلاقیات پر حقیقی سیاست کی فتح کی عالمی علامت بن کر ابھرے۔ ایرانیوں نے شکست اور ہتھیار پھینکنے کے لبادے میں چھپ کر آنے والی خوش قسمتی کا بہترین فائدہ اٹھایا۔

1988 کے موسم ِ گرما میں اچانک یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ مُلائیت تو محض نظر کا دھوکہ تھا اور یہ کہ بدقسمتی کا کوئی ستارہ یا نادیدہ غیر ملکی ہاتھ نہیں بلکہ اپنی قسمت کے فیصلے ایرانی خود رقم کر رہے تھے۔ یہ دراصل آیت اللہ خمینی کی لائی ہوئی تبدیلی تھی جس نے انقلاب کے اصلاح پسند اشرافیہ طبقے کو ریاستی امور مذہب سے الگ کرنے، جمہوریت اور ایران کے بین الاقوامی مؤقف میں نرمی لانے کی راہ پر ڈالا۔

ایرانیوں نے عراق کے ساتھ جنگ کے اختتام پر مذہب اور سیاست کو اکٹھا کرنے کی بد احتیاطی کے حوالے سے جو سبق سیکھا وہ بند کمرے کی کسی تربیتی ورکشاپ میں باغی گروہوں کوسیکولر ازم کی تبلیغ کرکے کبھی نہیں سکھایا جاسکتا تھا۔ نہ ہی یہ آزادی دلانے والی افواج کی چڑھائی سے سیکھا جا سکتا تھا۔

بلاشبہ ایران کا موجودہ ماحول کسی بھی با اختیار سیاسی نظام کی طرح تبدیلی کے خلاف ہٹ دھرمی کی حد تک مزاحمت کرتا ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّمہ ہے کہ جنگ کے بعد کا دور ایرانیوں کے لئے بہت متانت اور اجتماعی آموزش کا وقت تھا۔ ایرانیوں کا جمہوریت کی طرف موجودہ جھکاؤ انتہائی سخت سزاؤں والے سکول میں بھاری قیمت پر میڑک کا امتحان پاس کرنے کا نتیجہ ہے۔

اب حالات کو درست رکھنے کی کلید یہ ہے کہ دائیں بازو کے ایرانیوں کا دنیا کے بارے میں جو یہ تصور ہے کہ ایران کے ہر مسئلے کا سبب بیرونی دشمن ہیں، اس کی حمایت فی الفور بند کی جائے۔ جو لوگ مستقبل میں ایران پر کسی امریکی حملے کی تائید کررہے ہیں انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ غیر ملکی بم نہ صرف ممکنہ ایٹمی تنصیبات کو تباہ اور بہت سے ایرانیوں کو ختم کریں گے بلکہ پورے ایران کی نفرت اور غُصّے کا موجب بھی بنیں گے۔ آسمان پر دھاریاں بناتے میزائل اور نظر نہ آنے والے بمبار طیاروں کے جھُنڈ اصلاحی تحریک کو کچلنے کا بہانہ بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن کسی بڑے فوجی حملے کی صورت میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایسا کوئی حملہ ایران کی ازخود اجتماعی آموزش کی جدلیات کا صفایا کردے گا اور وقت کا پہیہ الٹی سمت میں گھوم کر ایک بار پھر 70 کی دہائی جیسی خوفناک اور شکست خوردہ ذہنی کیفیت پیدا کردے گا۔

###

٭ احمد صدری سوشیالوجی کے پروفیسراور لیک فارسٹ کالج، شکاگو، الّی نوئیس میں قائم اسلامک ورلڈ سٹڈیز کے جیمز پی گورٹر چیئرہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے اوراسے درج ذیل ویب سائٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے:
www.commongroundnews.org

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز)،23 مئی ، 2008
اس مضمون کی اشاعت کے لئے کاپی رائٹ کی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"مجھے کامن گراونڈ نیوز سروس کے ساتھ کام کرنے والے کئی افراد کی طرف سے چھ سوالات موصول ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ ہماری جامعہ الازہر کے طلبہ اور ماہرین ،بشمول ان لوگوں کے جو علمی حوالے سے کام کرتے ہیں ،اس کوشش کا احساس کریں گے جو ان سوالات کے پیچھے موجود ہے ۔صرف وسیع معلومات کے حصول اور کتابوں کا مطالعہ جن سے الماریاں بھری پڑی ہیں اور منظم فکر کے بعد ہی ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جو مختلف گروہوں کے درمیان روابط کو استوار کرتے ہیں ،اور جو واہموں اورایسے چھو ٹے پن کا شکار نہیں ہوتے جس سے علم کی عمارت برباد ہو جاتی ہے."

- شیخ علی جمعہ ، مفتی اعظم مصر
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
لبنان پر چھائی گھٹائیں اور امید کی کرن
ترکی کی تاریخ کا اہم موڑ
لبنان نے جمود توڑنے کا تہیّہ کر لیا!!!
نوجوانوں کی ایک بین العقائد میٹنگ
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

لبنان پر چھائی گھٹائیں اور امید کی کرن از عباس بارزیگر
ترکی کی تاریخ کا اہم موڑ از کرسٹینا باشے فضان
لبنان نے جمود توڑنے کا تہیّہ کر لیا!!! از ہزیم سغیح
نوجوانوں کی ایک بین العقائد میٹنگ از دل آرأ حفیظ