واشنگٹن، ڈی سی: اپنے مخالفین کے ساتھ گفت و شنید کرنا ایک بہت احتیاط طلب کام ہے۔ بارک اوبامہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کے بیشتر مبصّرین کو یقین ہے کہ اب 'مذاکرات ' ہی امریکہ کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار پائیں گے، اس کا نتیجہ چاہے جو بھی نکلے۔ تاہم اگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اندازِفکر کوئی بہت بڑی تبدیلی ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔
اگرچہ کبھی کبھی وہائیٹ ہاؤس کے اخباری بیانات میں تفریق کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن درحقیقت پچھلے دوسال کے دوران صدر جارج ڈبلیو بُش زیادہ تر انہیں حربوں پر انحصار کرتے رہے ہیں جنہیں بیشتر مبصّرین بارک اوبامہ کا خاصہ قرار دے رہے ہیں۔ وسیع تر خارجہ حکمتِ عملی کے حوالے سے جب مذاکرات اور مکالمے کی نئی راہیں کھولنے کا ذکر ہو تو بُش کا دوسرا چارسالہ دورِ صدارت بارک اوبامہ کے آنے والے چار سالوں سے بڑی حد تک مماثل ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر آپ دیکھیں کہ 'بدمعاش' حکومتوں اور بلا روک ٹوک " دہشت گرد گروہ" قرار دیئے جانے والوں کے ساتھ گفت و شنید سے چھ سال تک انکار کرنے کے بعد 2006 سے بُش انتظامیہ نے عراق میں مذاکرات کے ذریعے سُنّی باغیوں کے ساتھ دیرپا اتحاد قائم کر لیا ہے جن میں بہت سے افراد 2003 کے موسمِ گرما سے 2006 کی سردیوں تک ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ واشنگٹن نے پیانگ یانگ کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو قابلِ تصدیق طور پر بند کرانے کے لئے شمالی کوریا کے ساتھ کامیاب کثیر فریقی مذاکرات کی بھی قیادت کی۔ شمالی کوریا نے 2006 میں ایٹمی ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔
ان سب سے بڑھ کر حیران کن بات یہ ہے کہ بُش انتظامیہ نے ایران کے ساتھ بھی مذاکرا ت کئے تاکہ وسطی عراق کی شیعہ ملیشیا کو فوجی اور مالی معاونت کم کرائی جا ئے۔ واشنگٹن نے طالبان کے غیر القاعدہ عناصر کے ساتھ بات چیت کے لئے بھی کشادگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
تاہم یہ کہہ دینا کہ بُش اپنی تباہ کن پالیسیوں کو درست کرتے رہے ہیں، کافی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بُش نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کا آخری نصف اپنی خارجہ پالیسی کی شکل بدلنے میں صرف کیا ہے کیونکہ ان کے سابقہ سبھی حربے ہر موڑ پر ناکام ثابت ہو رہے تھے۔
تبدیلی تو ان میں بہر حال آئی ہے اور آخر بُش انتظامیہ کسی نہ کسی سطح پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اعلانیہ " دشمنوں " خاص طور پر " بدی کا محور" قرار دیئے گئے ممالک کے ساتھ اچھی طرح مذاکرات میں مصروف ہے۔
اوبامہ کی مشغولیت کی حامی پالیسی نئی اور بصیرت کی حامل لگتی ہو گی لیکن ایسا محض اس لئے ہے کہ بُش نے مذکورہ فریقوں کے ساتھ روابط قائم کرنے میں بہت خاموشی اختیار کی کیونکہ ایک ایسی پالیسی پر دھوم مچانا اچھا نہیں لگتا تھا جسے ان کی ترجیحات کی ابتدائی فہرست میں بے کار قرار دیا گیا تھا۔
اوبامہ نے اپنی خارجہ پالیسی کا صاف ستھرا لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے انتخابی مہم کے دوران بش کی صدارت کے آخری دو سالوں میں رابطے استوار کرنے کے حربوں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ تاہم یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ اوبامہ نے موجودہ وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کو پینٹا گون میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دو سال کے عرصے میں، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اور پاکستان پر نئی طرح سے توجہ دینے کے حوالے سے تو ایسا لگتا تھا جیسے بُش اور اوبامہ ایک دوسرے کی تقریریں پڑھ رہے ہیں۔
جب ہم میں سے بیشتر لوگوں کا دھیان اس میں بٹا ہوا تھا کہ صدارتی امیدوار کس طرح اپنی انتخابی مہم کا منشور تیار کریں گے، بش ان مذاکرات کی سیریز کا ماحول تیار کرنے میں مصروف تھے جنہیں مکمل کرنے کی ان میں قابلیت تھی نہ سیاسی سرمایہ۔ اس کے برخلاف اگر اوبامہ کے پاس ہمارے مخالفین کو مؤثر طریقے سے مذاکرات میں مشغول کرنے کی اہلیت اور سیاسی قوت ہے تو بہترین بات یہ ہو گی کہ وہ اپنے پیشرو کی بیرونی دنیا میں شروع کی گئی حالیہ سفارتی کوششوں کو بدلنے کی بجائے آگے بڑھائیں۔
پالیسی کا نیا اندازِ فکر متعارف کرانے اور سابقہ انتظامیہ کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں توازن قائم کرنا ہی وہ امر ہے جسے یقینی بنانا اوبامہ کی ٹیم کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اوبامہ کے حامی 20 جنوری کو بالکل مختلف اور نئی پالیسیوں کی توقع کر رہے ہیں کیونکہ بُش انتظامیہ کی تاخیر سے شروع کی گئی کوششیں ان کی صدارت کی ناکامی میں چھپ گئی ہیں۔
اوبامہ کو یہ فائدہ اور بصیرت حاصل ہے کہ انہیں روزِ اوّل ہی سے اس بات کا پتہ ہے جو ان کے پیشرو کو چھ سال بعد سمجھ آئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ کم سیاسی اور عسکری غلطیاں کریں گے اور خاص طور پر توہین آمیز غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔ تاہم اگر یہ کامیاب نہیں ہوتیں تو انہیں بھی باخبر رہنا ہوگا کہ کب لائحۂ عمل تبدیل کرنا ہے۔
اس وقت ہمیں تیزی سے وہ دانش مل رہی ہے جو برسوں کی شکست کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ مشکلات کے بعد سبق سیکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس سبق کی اہمیت کم ہے بلکہ اس مطلب یہ ہے کہ یہ سبق بہت بڑی قیمت ادا کرکے سیکھا گیا ہے۔ اوبامہ بُش کے منظرِ عام سے ہٹنے کے ثمرات سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم اس سبق سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لئے اوبامہ کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جب وہ تبدیلی کے لئے مہم چلا رہے تھے، تبدیلی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔
#####
٭ ڈیوڈ ایچ ینگ واشنگٹن میں قیام پذیر جائزہ کار ہیں اور ان کا بلاگ www.justwars.org ہے۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس ( سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے اور اسے درجِ ذیل ویب سائٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے:
www.commongroundnews.org
ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) 19 دسمبر 2008
اس مضمون کی اشاعت کے لئے کاپی رائٹ کی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔