لاس اینجلس، کیلی فورنیا: پانچ جولائی کو قاہرہ میں پروفیسر نصر حامد ابو زید کی وفات کے ساتھ ہی اسلامی علم وتحقیق کا ایک روشن ستارہ غروب ہو گیا ہے۔ میں نے اُنہیں آخری بار پچھلے موسمِ بہار میں " قرآن اپنے تاریخی تناظر میں" کے موضوع پر نوٹرے ڈیم یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں دیکھا تھا جہاں انہوں نے اور ایران کے عظیم معاصر فلسفی اور دانشور پروفیسر عبدالکریم سروش نے دانشورانہ طور پر انتہائی خیال انگیز اور جذباتی اعتبار سے جھنجھوڑنے والی تقاریر کیں۔
میرے خیال میں یہ دونوں مُسلم شخصیات کسی بھی مذہب کے دانشورانہ اور اخلاقی اظہار کی انتہائی بلندی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
بدقسمتی سے ابو زید کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ 1990 کی دہائی کے وسط میں قاہرہ کی ایک عدالت میں ان کے خلاف مقدمے کی سماعت اور "ارتداد کا جرم" ثابت ہونا ہے جس کے بعد عدالت نے انہیں اپنی محبوب بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے مصر سے فرار ہو کر مغرب کا رُخ کیا۔ وہ یقیناً مُرتد نہیں تھے بلکہ مذہب کے سچّے پیروکار تھے جو ایک "عالم" کی دانشورانہ اور روحانی زندگی کی کامل مثال اور ایک ایسے سکالر تھے جس نے اصولِ قانون کی مہارت کو فلسفے، علم الکلام، الٰہیات اور قرآن کی تفسیر کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
گیارہویں صدی عیسوی کے عظیم فلسفی ابنِ سینا اور بارہویں صدی کے فلسفی ابنِ رُشد اور اُن کے معاصرین بارہویں صدی کے یہودی راہب اور فلسفی میمونائیڈز اور تیرہویں صدی کے اطالوی پادری تھامس ایکوئیناس دی کرسچِئن کی طرح ابو زید بھی الٰہیات یہاں تک کہ 'وحی الہی' پر بھی تنقیدی فِکر کا اطلاق کرنے پر اصرار کرتے تھے جسے مذاہب کے پیروکاروں کے لئے اس روشنی میں دیکھنا سب سے مُشکل لگتا ہے یعنی خدا کا کلام۔
اپنی اس سوچ کے نتائج بھی اُنہیں بھگتنا پڑے لیکن اس کی وجہ ان کا مسلمان ہونا یا یہ نہیں تھی کہ اسلام خود تنقیدی برداشت نہیں کر سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر معاصر مسلم دنیا کی پیداوار تھے۔ ابو زید نے عربی زبان اور اسلامیات میں بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی قاہرہ یونیورسٹی سے کی تھی، سوبورن، آکسفورڈ یا پرنسٹن سے نہیں۔ 1995 میں زبردستی جلاوطن کیے جانے سے پہلے تک ان کی ساری زندگی اپنے آبائی وطن مِصر میں ہی گزری تھی۔
کاش وہ مُسلم دنیا کے کِسی دوسرے عہد میں پیدا ہوئے ہوتے تو ان کی زندگی بالکل مختلف ہوتی۔ ایک ایسے وقت میں جب مغرب صلیبی جنگوں میں اُلجھا ہوا تھا، مُسلم دنیا عظیم صوفی ماہرِ الہٰیات اور شاعر جلال الدین رومی، قرونِ وسطیٰ کے عظیم ترین ماہرِ نباتات اور فارماسسٹ عبداللہ ابن البیطار اور ڈاکٹر ابن النفیس جنہوں نے خون کی شریانوں کا کردار دریافت کیا اور قاہرہ میں ان کے ہسپتال میں مسلمانوں کے علاوہ عیسائی اور یہودی طبیبوں کو بھی پڑھایا جاتا تھا، جیسے نامور سکالرز پیدا کر رہی تھی۔
ابو زید ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور انہوں نے دو درجن سے زیادہ مضامین بھی لکھے ہیں۔ اسلام اور مُسلم تاریخ کے عظیم مغربی سکالرز مثلاً ہارورڈ کے ولیم گراہم اور یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی کے مائیکل لیکر کی طرف سے انہیں باقاعدگی کے ساتھ کتابوں پر تبصرہ کرنے کو کہا جاتا تھا۔ وہ اپنی سوچ میں بہت نڈر لیکن اپنی زندگی میں بہت منکسر المزاج تھے۔
بدقسمتی سے مسلم دنیا کے بعض خطّے ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں ابو زید جیسی ہستیوں کے علمی وتحقیقی کاموں اور تخلیق کو جابرانہ حکومتیں دبا دیتی ہیں جو اپنے اقتدار کو ہر قیمت پر قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ سچّے سکالر اور تخلیقی مُفکر جو یہ نعرہ لگانے کی ہمّت رکھتے ہیں کہ بادشاہ تو ننگا ہے، سب سے خطرناک قوت ہوتے ہیں جِسے اُکھاڑ پھینکنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ نعرہ صرف سیاست ہی نہیں بلکہ علمی اور تحقیقی کام اور آرٹس کے ذریعے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
ابوزید کے جانے سے ہم مُفلس ہوگئے ہیں لیکن ان کے چھوڑے ہوئے اثرات سے مالا مال ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے مسلم سکالرز کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے جو اسلام اور قرآن کے بارے میں بھی تنقیدی سوچ رکھتے ہیں۔ گزشتہ بہار میں منعقدہ نوٹرے ڈیم کانفرنس میں ایک درجن سے زیادہ مسلمانوں نے مقالے بھیجے تھے جب کہ اسلام کے موضوع پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں علمی کانفرنسوں میں شرکت اور ان کا انعقاد کرنے والے مسلمانوں کی تعداد آج سے محض ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
مسلم دنیا کی موجودہ سیاسی فضا میں ابو زید جیسے مسلم سکالرز کے لئے اپنی بات سُنانا بہت مُشکل ہے۔ یہ شکایت کرنے کی بجائے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، ہمیں حقیقی مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی کمیونٹی کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے انتہائی اہم کام کو جاری رکھنے کی جد وجہد میں مصروف ہے۔
###
* ریوون فائر سٹون ہیبرو یونین کالج میں قرونِ وسطیٰ کی یہودیت اور اسلام کے پروفیسر اور جنوبی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے مرکز برائے یہود ومسلم مشغولیت کے کوڈائریکٹر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) نے مُصنف کی اجازت سے تقسیم کیا ہے۔
ماخذ: جیوش جرنل، 9 جولائی 2010
www.jewishjournal.com
اس مضمون کی اشاعت کے لئے کاپی رایٹ کی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔