ملائشیا میں اسلام اور خواتین سے متعلق معاملات میں پیش رفت

از مرینا مہاتیر
20 اگست 2010
چھاپئے
ای میل
کوالالمپور: اس سال جولائی کے آغاز میں ملائشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق نے اعلان کیا کہ مُلک کی شرعی عدالتوں میں جج کے طور پر دو خواتین کا تقرّر کیا گیا ہے۔ شرعی عدالتیں ملائشیا میں رائج دو طرح کے عدالتی نظاموں میں سے ایک ہیں جو اسلامی اصولوں پر مبنی شرعی قوانین سے متعلق امور میں فیصلہ دیتی ہیں۔

خواتین کے گروپ بشمول 'خواہران اسلام' (ایس آئی ایس)' ، جس کے ساتھ میں مُنسلک ہوں، نے اس اقدام کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے جس کی شرعی عدالتوں میں عورتوں کو بالخصوص خاندان سے متعلق معاملات میں درپیش مسائل کی وجہ سے ایک طویل عرصے سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ مُسلم خواتین کے لئے انصاف اور مساوات کی علمبردار "'خواہران اسلام' " کم از کم 1999 سے خاتون ججوں کو تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔

ملائشیا کے شہری قوانین کا نفاز وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ لیکن وفاقی آئین اپنی 13 ریاستوں کو دو شعبوں، زمین اور "اسلامی عقیدہ رکھنے والے افراد" پر لاگو ہونے والے قوانین میں اختیار دیتا ہے جس میں خاندانی معاملات مثلاً شادی، طلاق، بچوں کی تحویل اور وراثت وغیرہ شامل ہیں۔ شرعی عدالتوں کو غیر مُسلموں پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے اور اسی طرح اسلامی عبادات سے متعلق مقدموں کی سِول عدالتوں میں سماعت نہیں کی جاتی۔

حکومت کچھ عرصے سے عدالتی نظام کی اصلاح کرنے کی بات کر رہی تھی اور اگرچہ شرعی عدالتوں میں خواتین کی تعیناتی گذشتہ ماہ عمل میں آئی ہے لیکن درحقیقت اس کا فیصلہ 2006 میں ہی کر لیا گیا تھا۔ یہ دونوں خواتین اگرچہ وفاقی سطح کی شرعی عدالتوں میں تعینات کی گئی ہیں لیکن بہرحال یہ ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ ان کی تقرری سے صوبائی شرعی عدالتوں کے لئے قابلِ تقلید مثال قائم ہوگئی ہے۔

تاہم ان خاتون ججوں کی تقرری سے حقوقِ نسواں کے گروہوں میں جو جوش وخروش پیدا ہوا تھا وہ جولائی میں اعلان کے پندرہ دِن بعد اُس وقت کافی حد تک ٹھنڈا پڑ گیا تھا جب شرعی عدالتوں کے 20 مرد ججوں پر مُشتمل ایک کمیٹی نے اپنا اجلاس بلایا اور اس میں یہ بحث کی گئی کہ خاتون جج کون سے مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں۔

اسلامی اپیلز کورٹ کے ایک جج داتُک محمد یُوسپ چی تے نے کہا کہ اس صورت حال کو واضح کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ بعض مقدمات ایسے ہیں جن کی سماعت کوئی عورت نہیں کر سکتی جن میں طلاق اور ولی حاکم کے مقدمات شامل ہیں جن کا تعلق مرد سرپرست کے کردار سے ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ معاملہ چاہے بچوّں کی تحویل کا ہو یا اثاثوں کی تقسیم کا، بیشتر ملائشیائی عورتوں کے ساتھ سب سے زیادہ ناانصافی طلاق کے مقدمات میں ہی ہوتی ہے۔ مزید برآں جن مقدمات میں مرد سرپرست شامل ہو اُن سے فطری طور پر صرف خواتین ہی متاثر ہوتی ہیں جنہیں، مثال کے طور پر، اُن سے رضامندی حاصل کیے بغیر شادی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ زیادہ تر مقدمات میں سرپرست اُن کے اپنے باپ ہوتے ہیں لیکن اگر باپ موجود نہ ہو اور نہ ہی کوئی مرد رشتہ دار دستیاب ہو تو عدالت کو کسی مرد کو دُلہن کا سرپرست بنانے کی ضرورت پڑتی ہے جس سے مقدمے کا فیصلہ کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

حقوقِ نسواں کے گروپ ان امکانات کے بارے میں سوچ کر بہت ولولہ محسوس کر رہے ہیں کہ خاتون جج ایسے مقدمات پر نظر رکھ سکتی ہیں جن میں عورتیں یہ محسوس کرتی ہیں کہ اُن کے ساتھ غیر مُنصفانہ سلوک ہو رہا ہے۔ توقع ہے کہ خاتون جج طلاق یا بچّوں کی تحویل کے مقدمات میں اثاثے تقسیم کرتے ہوئے زیادہ منصفانہ طور پر فیصلہ کریں گی اور جن مقدمات میں دُلہن کا حقیقی والد موجود نہ ہو اُن میں سرپرست کا تقرر زیادہ سُرعت کے ساتھ کیا جائے گا۔

نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ " یہ تقرّریاں خاندانی مسائل اور عورتوں کے حقوق سے متعلق مقدمات میں زیادہ بہتر طریقے سے انصاف کرنے اور دورِ حاضر کے تقاضے پورے کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہیں"۔ اس اقدام سے لگتا ہے کہ شرعی عدالتوں کے قدامت پسند جج شائد کچھ تحفظات رکھتے ہیں لیکن دوسری طرف خواتین کے گروہوں کے خدشات بہرحال بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں کیونکہ جولائی کے اواخر میں ایک خصوصی پینل نے فیصلہ دے دیا تھا کہ خاتون جج مرد ججوں کی طرح تمام مقدمات کی سماعت کر سکتی ہیں۔

یہ بات توجہ کے قابل ہے کہ قرآن انصاف کو یقینی بنانے کے لئے ججوں کو اپنی دانش استعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے " ۔۔۔۔۔ اور جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو (4:58) "۔ اس آیت میں انصاف پر زور دیا گیا ہے اور یہ ذِکر کہیں نہیں ہے کہ جج کوئی مرد ہونا چاہیے یا عورت۔ لہٰذا جس طرح سِول کورٹس میں خواتین طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہی ہیں بالکل ویسے ہی شرعی عدالتوں کے نظام میں بھی عورتوں کے جج بننے کی راہ میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہے۔ اب اصل کام اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ جج چاہے مرد ہوں یا خواتین، انصاف کا بول بالا کریں۔

###

*مرینا مہاتیر ایک معروف کالم نگار، سماجی بلاگر، عورتوں کے حقوق کی داعی، 'خواہران اسلام' ' کے بورڈ کی رُکن، ملائشیا کے چوتھے وزیرِ اعظم کی بیٹی اور اقوامِ متحدہ کی عالمی ماہر(www.globalexpertfinder.org) ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) 20 اگست 2010
www.commongroundnews.org
اس مضمون کی اشاعت کے لئے کاپی رایٹ کی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"کوئی ایسا ذریعہ جو متوازن ہو اور مشرق وسطی میں مصالحت۔ افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کو فروغ دے، مشکل سے ہی ملتا ہے۔ کامن گراونڈ نیوز سروس یہ سب کچھ تسلسل کے ساتھ فراہم کر رہی ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ سروس مشرق وسطی کے تمام لوگوں کے لیے بہتر مستقبل کی امید پیدا کرتی ہے، جو سب سے غیر محسوس اور سب سے اہم عنصر ہے."

- زیاد اصالی، فلسطین پر امریکی ٹاسک فورس کے صدر
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
امریکہ، مراکش اور پاکستان میں ماہِ رمضان کے شب وروز
اسرائیل ترکی تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کی ضرورت
پاکستان کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھائیں
گیارہ ستمبر کے بعد والے امریکہ کا مُسلمان رَیپ موسیقار
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

امریکہ، مراکش اور پاکستان میں ماہِ رمضان کے شب وروز از جولیٹ شمِٹ
اسرائیل ترکی تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کی ضرورت از ندرے مورینزا
پاکستان کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھائیں از ثنا سلیم
گیارہ ستمبر کے بعد والے امریکہ کا مُسلمان رَیپ موسیقار از میڈلین ڈُوبوس