اسرائیل میں بغاوت کے آثار؟

از ناوا مشایہ
01 جولا‏‏‏‏‏‏ئ 2011
چھاپئے
ای میل
جنیوا: "اس وقت اسرائیل کو ایک بغاوت کی ضرورت ہے۔" یہ وہ جُملہ تھا جو مجھے مئی کے وسط میں قطر میں منعقدہ مشرقِ وسطیٰ کے اقتصادی مستقبل کو بھرپور بنانے کے موضوع پرچھٹی کانفرنس کے ضمنی مباحثوں کے دوران سُننے کو ملا۔

اس کانفرنس میں 80 ممالک کے 600 سے زائد مندوبین نے شرکت کرکے حالیہ عرب بغاوت کے مضمرات اور مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی آئندہ اقتصادی خوشحالی پر بحث کی۔ اگرچہ اسرائیل میں بغاوت کی بات اس دو روزہ کانفرنس کے نتیجے میں سامنے آنے والا اہم ترین نکتہ نہیں تھا تاہم اس پر وہاں موجود چند اسرائیلی مندوبین کے کان ضرور کھڑے ہوگئے تھے۔

’بغاوت‘ سے مُقررین کی مراد اسرائیل میں جمہوریت کی طرف مُنتقلی پر زور دینا نہیں تھا کیونکہ اسرائیل کے بیشتر شہری اسے ایک جمہوری مُلک ہی سمجھتے ہیں۔ یہ تبصرہ امن کے لئے اسرائیلی آواز کی غیرموجودگی یا تنازعہ کو حل کرنے میں اسرائیل کی متصوّرہ لاتعلقی کے حوالے سے تھا۔

ایک اسرائیلی کی حیثیت سے میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس غلط تاثر کو درست کرنا میری ذمہ داری ہے۔ میں شرکأ کو، جن میں بہت سے افراد کا شمار عرب دنیا کی سرکردہ سیاسی اور کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے، ان اسرائیلیوں کے بارے میں بتانا چاہتی تھی جو امن کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں اور اب ان کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کی کوششوں کو ابھی بغاوت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کا یوں ابھرنا سارے اسرائیل میں انتہائی بائیں بازو اور بائیں طرف جھکاؤ رکھنے والے وسطی طبقوں میں حکومت کی سرکردگی میں کسی امن عمل کے موجود نہ ہونے پر پائی جانے والی تشویش کی علامت ہے۔

میں نے شرکا کو جس اہم سرگرمی کے بارے میں بتایا وہ اسرائیلی امن سرگرمی (آئی پی آئی) تھی جو اسرائیل کی ہائی ٹیک انڈسٹری کی ایک سربرآوردہ شخصیت اور سول سوسایٹی انٹر پرینوئر کوبی ہوبرمین؛ اسرائیل کی جنرل سیکورٹی سروسز کے سابق سربراہ یاکوو پیری اور اسرائیل کے آنجہانی وزیرِ اعظم یزحاک رابن کے بیٹے یُووال رابن کی قیادت میں شروع کی گئی تھی۔ آئی پی آئی کا مِشن حکومت کو 2002 والی اس غیر معمولی عرب امن سرگرمی کو علاقائی مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے پر قائل کرنا ہے جو مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا کے بدلے میں تنازعہ کے خاتمے اور حالات کو مکمل طور پر معمول پر لانے کا تصوّر پیش کرتی ہے۔

فی الوقت یہ محض ایک سِول تحریک ہے جس میں معروف شہری اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ تاہم ماضی بتاتا ہے کہ سول تحریکیں رائے عامہ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اتنا دباؤ پیدا کردیتی ہیں کہ حکومتیں اسے نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ آئی پی آئی کے ارکان فلسطینی کمیونٹی کی طرف سے بین الاقوامی کاروباری اداروں پر اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعاون ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کے لئے جاری ’اقتصادی انتفاضہ‘ سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ سیاسی عمل کا فقدان بڑھتی اور پھَلتی پھولتی ہوئی اسرائیلی معیشت کے لئے تباہ کُن ثابت ہو سکتا ہے۔

اسرائیل میں احتجاج کی داغ بیل اجلاس کے کمروں اور نجی نشست گاہوں میں ڈالی جا رہی ہے اور اسے ذرائع ابلاغ میں بھی کچھ توجہ ملنے لگی ہے۔ یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ حکومت اسرائیل کو لا متناہی جنگ وجدل کے مستقبل سے بچائے اور 1967 والی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حَل پر عمل کرے۔

میں نے کئی رسمی فورَموں اور نجی بحثوں میں اپنے عرب رفقائے کار کے ساتھ آئی پی آئی کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ ان سب میں اس طرح کی سرگرمیوں کے بارے میں جاننے کی شدید خواہش ہے اور ہمیں یہ پیغام پھیلانے میں مدد کرنی چاہیے۔

عرب دنیا اور اسرائیلی معاشرے کے درمیان حائل باڑ کے دونوں طرف آتے جاتے مجھے اکثر اس بے خبری کو دُور کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کا ہر فریق دوسرے کے بارے میں اظہار کرتا ہے۔ حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے اس احساس کو خاص طور پر تقویت دی ہے۔

دوحہ میں شیریٹن ہوٹل کی لابی میں نوجوان اسرائیلی شرکأ کے ایک گروپ نے نوجوان مِصری انقلابیوں کو ان کے حوصلے پر مبارک باد دی۔ مِصریوں کو اس پر بہت حیرت ہوئی کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ ایسے اسرائیلی بھی موجود ہیں جو اِس انقلاب کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان نوجوانوں کے مابین تبادلۂ خیال فیس بُک کے ذریعے جاری ہے اور اُمید ہے کہ اس کو دیگر اسرائیلیوں اور مِصریوں تک بھی وسعت دی جائے گی۔

علاوہ ازیں اس وقت صرف حکومتوں کے ہی نہیں بلکہ ’عام‘ اسرائیلیوں اور عربوں کے درمیان بھی ابلاغ کے نئے راستے تخلیق کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تصوّر کرنا مُشکل نہیں ہے کہ اگر مزید بہت سے لوگ آئی پی آئی جیسی متاثر کُن سرگرمیوں کے بارے میں جان لیں تو عرب دنیا میں اسرائیل سے متعلق تصوّرات میں کتنی تبدیلی آئے گی۔ اس کے ساتھ ہی عرب ہمسایوں کے ساتھ اسرائیلیوں کا رویّہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے اگر انہیں یہ پتہ چل جائے کہ ساری عرب دنیا دراصل جمہوری اقدار کے مطابق رہنے اور اقتصادی اور انفرادی آزادیوں کی آبیاری کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انتہا پسند عناصر ہمارے درمیان ہمیشہ موجود رہیں گے۔ تاہم ہمیں دونوں طرف موجود اعتدال پسند آوازوں کو تقویت دینا اور خیر سگالی کے ان دھاروں کو آپس میں جوڑنا چاہیے۔

یہ جاننا کہ دوسری طرف کا معاشرہ بھی یَک سنگی نہیں بلکہ بہت سے مختلف گروہوں پر مشتمل ہے جن کی اقدار اور ترجیحات اعلیٰ پائے کی ہیں اور وہاں ایسے وسیع سماجی طبقات پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ امن وسکون سے رہتے ہیں، مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی صورت دینے کا آغاز بن سکتا ہے جو اپنے تمام باشندوں کے لئے ایک صحت مند خطّہ ہوگا۔

###

* ناوا مشایہ ایم ای لِنکس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر، اِشرا کی سینِئر کنسلٹنٹ اور ’میڈا بِز‘ اکنامِک نیوز کی ایڈیٹر ہیں۔ اس مضمون میں شریف الدیوانی نے تعاون کیا ہے۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) یکم جولائی 2011
www.commongroundnews.org
اس مضمون کی اشاعت کے لئے کاپی رایٹ کی اجازت حاصل کی جاچکی ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"آپ کو میرے مضامین کی اشاعت کی اجازت حاصل ہے ۔ مجھے ہمیشہ اس نیوز سروس سے خوشی ہوئی ہے."

- جان اسپوزیٹو، جارج ٹاون یونیورسٹی میں پرنس الولید بن طلال سنٹر فار مسلم کرسچین انڈرسٹیںڈنگ کے بانی ڈائریکٹر اور یونیورسٹی پروفیسر
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
عرب پولیس کی اصلاح کی ضرورت
دہشت گردی سے متاثر ہونے والی خاتون کی فریاد
لبنان میں بین العقائد ہم آہنگی کے لئے مکالمے کی ضرورت
انڈونیشیا میں ثقافتی کثرتیت کا دفاع کرنے کی کوششیں
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

عرب پولیس کی اصلاح کی ضرورت از جوزف برودے
دہشت گردی سے متاثر ہونے والی خاتون کی فریاد از بشریٰ محسن
لبنان میں بین العقائد ہم آہنگی کے لئے مکالمے کی ضرورت از شیخ ہانی فہس
انڈونیشیا میں ثقافتی کثرتیت کا دفاع کرنے کی کوششیں از ٹیسٹرینو