ترکی میں درختوں سے متعلق مظاہروں پر غور کرتے ہوئے بڑی تصویر نظر انداز مت کیجیئے

از لیونیداس اوئیکونومقیس
14 جون 2013
چھاپئے
ای میل
فلورنس ۔ یہ سب کچھ چند درختوں کی وجہ سے شروع ہوا۔

لگتا ہے کہ ترکی میں حالیہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب قدامت پسند اسلامی جماعت "جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی" (اے کے پی) کے شہری احیا کے نیو لبرل (neoliberal) منصوبے نے استنبول میں نوتعمیر شدہ عثمانی بیرکوں میں بچ رہے آخری سبزہ زاروں میں سے ایک کو تباہ کر کے وہاں تجارتی مرکز تعمیر کرنے کی خواہش کی۔ استنبول کے رہائشیوں کو اشتعال دلانے والے اسی طرح کے دیگر متنازعہ معاملات میں آبنائے باسفورس پر تیسرے پل کا نام ایک عثمانی سلطان کے نام پر رکھنا جسے علوی (شیعیت اور تصوف کے نظریات کے ملاپ سے تشکیل پانے والا ایک مذہبی گروپ) قاتل سمجھتا اور استنبول کے تاریخی سینما گھروں میں سے ایک کو مسمار کر کے اس کی جگہ ایک اور تجارتی مرکز کی تعمیر شامل ہیں۔

لیکن احتیاط کریں کہ ان وجوہات پر نظر رکھتے ہوئے بڑی تصویر نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے۔

مذکورہ بالا مسائل مقامی ہیں جن کا تعلق عوامی مقامات کی نجکاری کی اردگان کی مہم سے ہے۔ اور یہ یقیناً اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ احتجاج استنبول میں کیوں شروع ہوا۔ لیکن دارالحکومت انقرہ کو کیا ہوا جہاں حالیہ تاریخ کے چند شدید ترین تصادم ہوئے؟ اور ازمیر، ہتاج، عدانہ، قونیہ اور 70 سے زائد ترک شہروں کے بارے میں کیا خیال ہے جہاں مظاہرے ہو رہے ہیں؟ کیا وہاں بھی شہر پر حق کی لڑائی ہو رہی ہے؟ استنبول کے درختوں کے لئے؟ ان شہروں کے اپنے درختوں کے لئے؟

اردگان کی اے کے پی 2002 میں کمال اتاترک نواز انتظامیہ کے خلاف ردعمل کے نتیجے میں اقتدار میں آئی جو فوج کی حمایت اور سیکولرزم کی سرکاری ریاستی پالیسی کے ذریعے ملک کے قیام سے اب تک حکومت کرتی آ رہی تھی۔ اگرچہ سیکولر کمال ازم ایک سنی مذہبی اور ترک نسلی شناخت پر قائم تھا جس میں سے آرمینیوں، یونانیوں، کردوں اور علویوں کو خارج کر دیا گیا تھا اور سیاست میں اسلام کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی تھی۔ بڑی حد تک ان عناصر کے اخراج پر اپنی مہم کی بنیاد رکھتے ہوئے اردگان کی اے کے پی ملک کی اسلامی سیاسی تحریک کو حکومت میں لے آئی اور اس وقت سے اب تک حکومت میں ہے۔ مستقلاً بڑھتی ہوئی انتخابی قوت کے بل پر اے کے پی نے ملک پر کمال نواز ثقافتی تسلط کو تبدیل کرنے کی مہم شروع کی۔ اس نے ذرائع ابلاغ، پولیس اور عدلیہ کو کمال نوازوں کے ہاتھ سے لے کر اور اس کے ساتھ ساتھ فوج کو قابو میں اور بیرکوں کے اندر رکھنے کا انتظام کر کے خاموشی سے ترک معاشرے کی قدامت پسندی کی طرف تبدیلی کی حوصلہ افزائی شروع کر دی۔

بیک وقت کچھ افراد اور گروپوں کے خلاف حکومت کا تختہ الٹنے کے الزامات لگا کے، جن کو بہت ہوا دی گئی، اے کے پی نے حزب اختلاف کی بہت سی آوازوں کو خاموش کر دیا۔ "کمیٹی برائے تحفظ صحافیاں" (Committee to Protect Journalists) کے مطابق یکم دسمبر 2012 کو ترکی میں 49 صحافی پابند سلاسل تھے جن میں سے 98 فی صد پر "ریاست مخالف" ہونے کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ ایک اور تنظیم "اقدام برائے مقید طلبا سے یکجہتی" (Initiative for Solidarity with Arrested Students) کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ موسم گرما تک 771 طلبا کو "دہشت گردی" کے الزامات کے تحت جیل میں ڈالا گیا۔

ترکی میں مظاہرین شراب کے استعمال کو محدود کرنے اور اسقاط حمل کے حق کو ساقط کرنے کی حکومتی کوششوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ان تمام لڑائیوں کی بنیاد ثقافتی تسلط ہے جو تقریباً 50 فی صد اکثریتی ووٹ کی حامل جماعت بقیہ آبادی پر لاگو کرنا چاہتی ہے جو بلاشبہ اسے اپنے طرز زندگی کو لاحق ایک خطرے کے طور پر دیکھتی اور اپنے آپ کو اس عمل سے خارج محسوس کرتی ہے۔

لیکن ہم ابھی تک درختوں کو گھورے جا رہے ہیں۔ ہمیں لازماً محتاط ہونا چاہئے کہ اس احتجاج کے ضمن میں ہم بڑی تصویر کو نظر انداز نہ کر دیں۔

ترکی میں احتجاج کی اس تازہ ترین لہر کو ہم احتجاج کے اس دائرے سے الگ نہیں کر سکتے جو ہم عالمگیر سطح پر 2011 سے دیکھ رہے ہیں۔ مصر، اسپین، یونان، چلی، امریکہ، میکسیکو اور ترکی، ان تمام ملکوں میں کچھ قدر مشترک ہے۔ یہ سب اس امر کا حصہ ہیں جسے میرا ساتھی جیروم روز اور میں "حقیقی جمہوری تحریک" (Real Democracy Movement) کہتے ہیں۔ اور اس کا مطلب مقامی تحریکوں کی ایک عالمگیر لہر ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ ریاست کے قلب میں جمہوری خسارے کو اجاگر کرتی ہے۔ اس عنوان کے ساتھ ہم نمائندہ جمہوریت اور طاقتور نیو لبرل معاشی مفادات کے آگے اس کے سرنگوں ہونے کے بحران کی طرف توجہ مرکوز کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ معاشی مفادات یونان، اسپین، اور امریکہ میں فلاحی خدمات اور ریاستی ملکیت کے اداروں کی نجکاری کرواتے ہیں یا ترکی میں پارکوں کی جگہ تجارتی مراکز تعمیر کرواتے ہیں۔

مزید برآں یہ تحریک اس سوال کو سامنے لاتی ہے کہ حقیقی جمہوریت کس طرح کی ہونی چاہئے اور ہم اس کا تجربہ دنیا کے چوکوں میں افقی اور براہ راست جمہوری فیصلہ سازی کے عمل سے کرتے ہیں۔ یہ کام مسلمہ طریقوں سے نہیں کیا جاتا جن میں بنے بنائے نسخے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسے عمل کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کی وضاحت تاریخ میں میکسیکو کے "زیپاٹسٹاس" (Zapatistas) انقلابی کر چکے ہیں کہ "پوچھتے ہوئے ہم سفر جاری رکھتے ہیں"۔ یعنی ہم یہ دعوٰی نہیں کر رہے کہ ہمارے پاس حقیقی جمہوریت کا نمائندہ ماڈل یا نمونہ ہے لیکن اتنا ہم یقیناً جانتے ہیں کہ کونسا ماڈل حقیقی نہیں ہے۔ جو کچھ ہم آج ترکی میں دیکھ رہے ہیں وہ اس تحریک کی ایک جزوی شکل ہے۔

ہاں، آپ جنگل کو دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن جنگل درختوں پر، بہت سے درختوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ (یعنی حقیقی منظر نامہ حد نظر سے کہیں آگے تک پھیلا ہوتا ہے۔ مترجم)

ہمیں ان کو اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ ان سب "درختوں" کو کاٹ ڈالیں۔

###

٭ لیونیداس اوئیکونومقیس اطالوی شہر فلورنس میں جامعہ یورپی انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ سیاسیات و سماجی سائنسز میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس Common Ground News Service (CGNews). کے لئے لکھا گیا۔

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس ﴿سی جی نیوز﴾، 14 جون 2013
www.commongroundnews.org
اس مضمون کی اشاعت کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"میں آپ کے تقسیم کردہ مضامین کو پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ اعادےاور تکرار کے بجائےبحث کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ان سے مجھ کو ان مسائل پر نئے انداز میں سوچنے میں مدد ملتی ہے جن کا حقیقتاًحل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ایسے مسائل جو سادہ نہیں بلکہ بہت پیچیدہ ہیں."

- مائیکل وولف، یو پی ایف ٹی وی
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
72 فی صد انڈونیشیائی شریعت کے خواہاں کیوں ہیں؟
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

72 فی صد انڈونیشیائی شریعت کے خواہاں کیوں ہیں؟ از جینی ایس بیو