معمول کے تعلقات کے خلاف (نارملائزیشن مخالف) بائیکاٹ ہم سب کے لئے باعث تکلیف ہے

از از ڈینیئل نوح موسس
11 اکتوبر 2013
چھاپئے
ای میل
یروشلم ۔ میں فلسطینی اور اسرائیلی معلمین پر مشتمل اپنے کارکن ساتھیوں اور دوستوں کے ایک گروپ کی میٹنگ کے انتظامات کر رہا ہوں۔ ان لوگوں میں اساتذہ، اسکولوں کے پرنسپل، کمیونٹی تنظیموں کے قائدین، غیر رسمی معلمین، موسیقار اور فنکار شامل ہیں۔ میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو غیر معمولی طور پر پرعزم، شفیق، بااصول اور پرجوش ہیں اور وہ اپنے لئے اور اپنے پیاروں کے لئے زیادہ انسان دوست، زیادہ منصفانہ اور زیادہ پرامن مستقبل کے لئے فعال انداز میں کام کرتے ہیں۔

ہماری اس میٹنگ کے راستے میں رکاوٹیں تمام اطراف سے پیش آتی ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کو یروشلم میں داخل ہونے کے لئے اسرائیلی حکام سے باقاعدگی سے اجازت نہیں ملتی: امریکی حکومت فنڈنگ پر پابندیاں لگا دیتی ہے جس سے ہمیں اپنے پروگرام کو لاگو کرنے میں تکلیف دہ سرخ فیتے کا شکار ہونا پڑتا ہے: وہ فلسطینی جن کے پاس اجازت نامے ہیں یا جن کے پاس یروشلم کے شناختی کارڈ ہیں ان کو اسرائیل کے ثقافتی اور تعلیمی بائیکاٹ کے علمبرداروں کی طرف سے روز افزوں مخالفت کا سامنا ہے۔

یہ بائیکاٹ نارملائزیشن مخالف مہم سے جڑا ہوا ہے۔ وسیع تر تعریف میں اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اور خود کو ان کے حامیوں کے طور پر شناخت کرنے والے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک اسرائیلی جامعہ یا تعلیمی ادارہ واضح طور پر قبضے کی مذمت نہیں کرتے تو ان کا لازماً بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔ اس خیال کی تہہ میں یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ اس طرح کے پروگراموں میں شمولیت جوں کی توں صورت حال (اسٹیٹس کو) کی مضبوطی کا سبب بنتی ہے۔

تعلیمی بائیکاٹ اور تعلیمی اداروں کے خلاف نارملائزیشن مخالف مہم نے مایوسی اور غصے سے جنم لیا ہے جسے سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن معاشی بائیکاٹ ایک چیز ہے اور مکالمے کے لئے پرعزم ایک تعلیمی تنظیم کا بائیکاٹ ایک دوسری چیز ہے۔ اس طرح کے اقدامات کو روکنے کی کوشش کرنا ان تمام لوگوں کے لئے نقصان دہ ہے جو ایک زیادہ منصفانہ اور زیادہ انسان دوست سرزمین مقدس میں اپنے مستقبل کے خواہاں ہیں۔

جو لوگ ثقافتی اور تعلیمی بائیکاٹ کی دلیل دیتے ہیں، جس میں جامعات اور لوگوں کی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کا بائیکاٹ شامل ہے، دراصل ایک سنجیدہ غلط فہمی کے زیر اثر بروئے کار ہیں۔ ایک منظم تعامل کے جز کے طور پر دوسری طرف کے کسی فرد سے ملنے کا مطلب اسٹیٹس کو قبول کرنا نہیں ہے۔ دوسروں کے نقطہ نظر کو جاننے کا مطلب مشغولیت نہیں ہوتا۔ جس نوع کی میٹنگوں کی میں بات کر رہا ہوں وہ محض شغل میلہ نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ہماری میٹنگوں کا اختتام اکثر بہتے اشکوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ شرکا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دوسرے پہلو کا سامنا کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے دلیری کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیڈز آف پیس، وہ تنظیم جس کے لئے میں کام کرتا ہوں، اور اسی طرح کی دیگر تنظیمیں صحرا میں خیمے لگاتی ہیں۔ ہم ایسی محفوظ جگہیں تخلیق کرتے ہیں جہاں تنازعے کے دونوں جانب کےلوگ مل سکتے ہیں اور چیلنجنگ اور عموماً تکلیف دہ عمل میں مشغول ہو سکتے ہیں، اپنا سچ بول سکتے ہیں اور بالکل مختلف نقطہ نظر پر مشتمل دوسروں کو ان کا سچ بولتے سن سکتے ہیں۔ اسٹیٹس کو کو قبول کرنے کی بجائے یہ اسے بدلنے کا قیمتی موقع ہوتا ہے۔

تمام اطراف سے تعلق رکھنے والے سیاسی طور پر جانبدار لوگ خیمے کو اپنی جانب کھینچنا چاہتے ہیں۔ لیکن صحرا میں جہاں ایسے خیموں کی کمی ہے یہ بات اہم ہے کہ یہ خیمے مضبوط اور مستحکم گڑے رہیں۔

ہو سکتا ہے امریکی ماہر سیاسیات آئن لسٹک کا 2003 میں "دو ریاستی سراب" کے زیر عنوان نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والا مضمون درست ہو۔ ہو سکتا ہے دو ریاستی حل مر چکا ہو۔ ہو سکتا ہے جان کیری، محمود عباس اور بنیامین نیتن یاہو ہمیں حیران کر دیں یعنی کوئی سرپرائز دے دیں۔ لیکن جو بھی صورت حال ہو، اسرائیلی اور فلسطینی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ لسٹک لکھتے ہیں کہ "تباہ کن تبدیلی" سے بچنے کے لئے "فریقین کو دنیا کو دیکھنے اور پھر اس طرح اختیار کرنے کی ضرورت ہے جیسے یہ ہے"۔ لیکن فلسطینی اور اسرائیلی یہ سب کس طرح کر سکتے ہیں اگر ان کے درمیان اتنا محدود اور سطحی تعامل ہے اور ایک دوسرے کی اتنی کم پہچان ہے؟

میرے خیال میں جو لوگ جامعات اور ایسی تنظیموں کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہیں جو مکالمے کا موقع فراہم کرتی ہیں وہ ایک اور دیوار تعمیر کر رہے ہیں۔ چیلنج یہ ہے کہ ان طبعی دیواروں، سیکورٹی کے ناکوں اور نوکر شاہی کی رکاوٹوں سے ماورا ہو کر کیسے بروئے کار آیا جائے۔ اس حوالے سے دو تجاویز درج ذیل ہیں۔

پہلی تجویز یہ ہے کہ گرین لائن پر ایسے مراکز کا ایک سلسلہ تعمیر کیا جائے جہاں فلسطینی اور اسرائیلی اجازت لینے کی ضرورت سے بے نیاز ہو کر باقاعدگی سے مل سکیں۔ اور بین الاقوامی کمیونٹی سے ان مراکز کو فنڈز فراہم کرنے کا عہد لیا جائے تاکہ یہ حیات بخش اور مکمل ثابت ہوں۔ لوگوں کے لوگوں سے تعامل کے ایسے اقدامات کا تصور تو کریں جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور اپنی پوری قوت سے لڑنے کا موقع فراہم کریں گے ۔ ۔ ۔ الفاظ کی قوت سے، شواہد سے، حقائق سے، اچھے دلائل کے وزن سے اور ایسے انسانوں کے طور پر اپنے وجود کی بھرپور موجودگی سے جو انصاف اور امن کے مستحق ہیں۔

اور دوسری تجویز یہ کہ پانی، یروشلم اور پناہ گزینوں کے نکات کی طرح تعلیم بھی امن عمل کا ایک لازمی نکتہ ہونا چاہئے۔ فلسطینی اور اسرائیلی قائدین کو بین الثقافتی تفہیم، باہمی اکرام اور شہری مشغولیت کے لئے تعلیم کو ایک لازمی اور فعال ترجیح بنانا چاہئے۔

ان اقدامات کا تعلق تنازعے کے خاتمے سے نہیں۔ ان کا تعلق تنازعے کی ہیئت تبدیل کر کے اس کو تمام شرکا کے لئے ایک ایسی چیز میں بدلنا ہے جو زیادہ مفید ہو۔

###

٭ ڈاکٹر ڈینیئل نوح موسس سیڈز آف پیس نامی تنظیم میں ایجوکیٹر پروگرامز کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ یروشلم میں رہتے ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس Common Ground News Service (CGNews). کے لئے لکھا گیا۔

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس ﴿سی جی نیوز﴾، 11 اکتوبر 2013
www.commongroundnews.org
اس مضمون کی اشاعت کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"مجھے کامن گراونڈ نیوز سروس کے ساتھ کام کرنے والے کئی افراد کی طرف سے چھ سوالات موصول ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ ہماری جامعہ الازہر کے طلبہ اور ماہرین ،بشمول ان لوگوں کے جو علمی حوالے سے کام کرتے ہیں ،اس کوشش کا احساس کریں گے جو ان سوالات کے پیچھے موجود ہے ۔صرف وسیع معلومات کے حصول اور کتابوں کا مطالعہ جن سے الماریاں بھری پڑی ہیں اور منظم فکر کے بعد ہی ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جو مختلف گروہوں کے درمیان روابط کو استوار کرتے ہیں ،اور جو واہموں اورایسے چھو ٹے پن کا شکار نہیں ہوتے جس سے علم کی عمارت برباد ہو جاتی ہے."

- شیخ علی جمعہ ، مفتی اعظم مصر
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
~گئے دنوں پر ایک نظر~ تیونس میں اسلام اور جمہوریت ایک دوسرے کی ضد نہیں
اسرائیل میں اتفاق کے پہلو کی حامل ڈش
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

~گئے دنوں پر ایک نظر~ تیونس میں اسلام اور جمہوریت ایک دوسرے کی ضد نہیں از رضوان مسمودی
اسرائیل میں اتفاق کے پہلو کی حامل ڈش از لیغ سوئن