سفر امن پر گامزن ہوتے مصری

از رندہ غازی
18 اکتوبر 2013
چھاپئے
ای میل
لندن ۔ آج کل قاہرہ کے بارے میں سوچیں تو ہو سکتا ہے کہ امن پہلا خیال نہ ہو جو ذہن میں آئے۔ مصری سیاسی منظر نامہ ماضی میں کسی بھی وقت سے ذیادہ منقسم نظر آتا ہے اور گذشتہ ہفتے کو پھر شروع ہونے والی جھڑپوں نے اخوان المسلمون کے حامیوں اور مخالفین میں خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔

لیکن قاہرہ ایسا شہر ہے جہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سال 21 ستمبر کو عالمی یوم امن نے قاہرہ کا ایک اور پرتو دکھایا جو انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر سب کو زیادہ متحد کرنے والے مصر کی جانب ایک قدم تھا۔

جمہوریت کی طرف سفر کے عبوری دور سے جنم لینے والے تناؤ سے ماورا اکثر مصری راہ امن پر گامزن ہو چکے ہیں۔ ان میں سوشل میڈیا کے ذریعے نیٹ ورکنگ کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شائق نوجوان فعالیت پسندوں سے لے کر پہلی بار نچلی سطح کی مہمات میں شامل ہوتے اور سیاست پر بحث کرتے پچھلی نسل کے مرد و زن تک سب شامل ہیں۔

21 ستمبر کو لگاتار تیسرے سال 40 سے زائد ملکوں میں لوگوں کو مشغول کرتی نچلی سطح پر تعمیر امن کے اقدامات کرنے والی تنظیم ماسٹر پیس (Master Peace) نے قاہرہ میں عالمی یوم امن ایک پروگرام اسٹریٹ آرٹ فیسٹیول (Street Art Festival) کے ذریعے منایا۔ تقریباً چار ہزار لوگوں نے شرکت کی اور دیواروں پر تصاویر اور خطاطی، موسیقی اور ورکشاپوں کی دن بھر کی مصروفیات سے محظوظ ہوئے۔ مختلف پس منظر اور عمر کے مصریوں نے شرکت کی۔

لوگ اتحاد اور کمیونٹیوں کے تعمیر کے لئے بہت پرجوش نظر آئے۔ قاہرہ میں ماسٹر پیس کی پراجیکٹ منیجر رغدہ الحلوانی کہتی ہیں، "کسی بھی فرد نے متعصب سیاسی علامتیں نہیں بنائیں۔ ہر ایک اپنی سیاسی وابستگی سے قطع نظر مل کر مصر سے اپنی وابستگی کا جشن منانے آیا"۔

وہ مزید کہتی ہیں، "خبروں میں بتائی جانے والی مبینہ خطرناک صورت حال کے باوجود لوگ گلیوں میں جمع ہونے سے خوف ذدہ نہیں تھے اور پورا پروگرام کسی ایک بھی ناخوشگوار واقعے کے بغیر منعقد ہوا"۔

پروگرام کے دوران ہونے والی ورکشاپوں میں جنسی ہراسیت، سماجی رواداری، بین العقائد مکالمے سمیت بحث کے فن جیسے موضوعات پر بات کی گئی۔ دیگر موضوعات میں یہ شامل تھا کہ پیش آمدہ انتخابات سے لے کر نئے مصر کی تعمیر میں تمام سیاسی نظریات اور نقطہ ہائے نظر کو شامل کرنے تک مصری اپنے ملک کو کیسے آگے لے کر جا سکتے ہیں۔

اس بات کے پیش نظر کہ جنسی ہراسیت جیسے مسائل پر بات کرنا سماجی طور پر ناقابل قبول تھا، یہ بات واضح ہے کہ 25 جنوری کے انقلاب سے قبل اس طرح کے اقدامات میں اتنی پرجوش شرکت اور شمولیت نہ ہوتی۔ حتٰی کہ بین العقائد مکالمے جیسے تصورات پر ماضی میں اس طرح بات نہیں کی جاتی تھی جیسے اس پروگرام کے دوران کی گئی۔

پروگرام کا اختتام اس طرح ہوا کہ مصریوں نے ماسٹر پیس کے خود مختار فنکاروں کے ساتھ مل کر ایک مکمل دیوار کو ایسی تصاویر اور نعروں سے بھر دیا جو ان کے اتحاد کی عکاسی کرتے تھے۔

مصر کے دارالحکومت میں تصاویر اور نعروں سے مزین دیواریں عالمی یوم امن کی نمایاں علامت ہیں۔ پہلی بار 2011 میں یہ پروگرام قاہرہ میں منعقد ہوا جس میں دیواری سائز کی تصویریں تخلیق کی گئیں جو بہتر مستقبل اور فطرت کے ساتھ امن کی نمائندہ تھیں۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے حلوانی کہتی ہیں، "کسی نے بھی ان تین برسوں میں ان دیواروں کو خراب نہیں کیا اگرچہ وہ ادھر سڑکوں پر ہی جمع تھے۔ ۔ ۔ لوگ حسن و جمال کی تحسین کرتے ہیں اور مصری اپنی گلیوں میں موزوں اور صاف مقامات کو پسند کرتے ہیں"۔

عوامی مقامات کا اس طرح کا خیال رکھنا اور فن کو سیاسی اور سماجی اظہار کی شکل کے طور پر استعمال کرنا نوجوان مصریوں میں اپنی قوم کی تعمیر کے بڑھتے ہوئے جذبے کی نشان دہی کرتا ہے۔

سیاسی اتھل پتھل، خراب طرز حکمرانی اور سیاحت کی تباہ حال صنعت کے تقریباً دو برسوں کے بعد مسلمان، مسیحی، آزاد خیال اور سیاست میں مذہب کے کردار کے خواہاں اور مخالف سب ابھی تک سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔
کسی کا نظریاتی مؤقف کچھ بھی ہو، 25 جنوری کا انقلاب ایک ایسی شہری سوچ اور احساس کا نقطہ آغاز ہے جس کا اظہار اس طرح کے پروگراموں میں اب تک کیا جا رہا ہے۔ ایک حقیقی جمہوری اور تکثیری معاشرے کو تشکیل دینے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مصری ان بنیادوں پر اپنی تعمیری سرگرمیاں جاری رکھیں جو انہیں متحد کرتی ہیں۔

###

٭رندہ غازی فری لانس صحافی ہیں جو مصری والدین کے ہاں اٹلی میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں۔ انہوں نے تین ناول قلمبند کئے ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس Common Ground News Service (CGNews). کے لئے لکھا گیا۔

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس ﴿سی جی نیوز﴾، 18 اکتوبر 2013
www.commongroundnews.org
اس مضمون کی اشاعت کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"مجھے کامن گراونڈ نیوز سروس کے ساتھ کام کرنے والے کئی افراد کی طرف سے چھ سوالات موصول ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ ہماری جامعہ الازہر کے طلبہ اور ماہرین ،بشمول ان لوگوں کے جو علمی حوالے سے کام کرتے ہیں ،اس کوشش کا احساس کریں گے جو ان سوالات کے پیچھے موجود ہے ۔صرف وسیع معلومات کے حصول اور کتابوں کا مطالعہ جن سے الماریاں بھری پڑی ہیں اور منظم فکر کے بعد ہی ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جو مختلف گروہوں کے درمیان روابط کو استوار کرتے ہیں ،اور جو واہموں اورایسے چھو ٹے پن کا شکار نہیں ہوتے جس سے علم کی عمارت برباد ہو جاتی ہے."

- شیخ علی جمعہ ، مفتی اعظم مصر
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
ہولوکاسٹ کے بارے میں ایرانی بیانات کی تفہیم کے لئے تناظراتی کلید
پشاور اور نیروبی حملوں کے پیچھے کیا وجہ کارفرما ہے؟
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

ہولوکاسٹ کے بارے میں ایرانی بیانات کی تفہیم کے لئے تناظراتی کلید از مائیکل فیلسن
پشاور اور نیروبی حملوں کے پیچھے کیا وجہ کارفرما ہے؟ از ایمبیسیڈر اکبر احمد