ہولوکاسٹ کے بارے میں ایرانی بیانات کی تفہیم کے لئے تناظراتی کلید

از مائیکل فیلسن
18 اکتوبر 2013
چھاپئے
ای میل
بوسٹن، ماساچوسٹس ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایران اور یہودی دنیا کے درمیان بڑی تبدیلیاں رونما ہونے کو ہوں۔ یہ سب کچھ نیا یہودی سال (روش ہشانا) شروع ہونے سے پہلے آخری شام کو ہوا جب ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی نے ٹوئٹر پر پیغام لکھا، "اس وقت جب یہاں تہران میں سورج غروب ہونے کو ہے میں تمام یہودیوں بالخصوص ایرانی یہودیوں کو روش ہشانا کی مبارک باد دیتا ہوں"۔

اس کے تھوڑی دیر بعد وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اسی طرح کا تہنیتی پیغام بھیجا جس کے جواب میں امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک راہنما نینسی پیلوسی کی بیٹی کرسٹائن پیلوسی نے لکھا، "نیا سال زیادہ خوبصورت ہو گا اگر آپ ایران کی طرف سے ہولوکاسٹ کی تردید ختم کر دیں گے"۔ اس پر ظریف نے جواب لکھا، "ایران نے اسے کبھی رد نہیں کیا۔ جس شخص کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ وہ اس کا انکار کرتا ہے وہ جا چکا ہے"۔ ٹوئٹر پر ان پیغامات کے چند ہفتوں کے بعد، اگرچہ چند باریک وضاحتوں کے ساتھ ہی، لیکن سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے روحانی نے ہولوکاسٹ کو تسلیم کیا۔

روحانی کے پیش رو کی جانب سے آٹھ برس پر محیط بے لچک دشمنی کے بعد یہ الفاظ ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ دیتے ہیں۔

روحانی کی صدارتی مہم نے ایرانیوں کو مغرب کے ساتھ نئے اور زیادہ پیداواری تعلقات کی پیش کش کی۔ بڑے پیمانے کی اصطلاحات کی طلب لئے ہوئے، عالمی سطح سے تنہائی اور پابندیوں سے بیزار ایرانیوں نے اس پیش کش پر لبیک کہتے ہوئے روحانی کو منتخب کر لیا۔

بلاشبہ روحانی مغرب اور بالخصوص یہودیوں تک ایسے انداز میں پہنچ رہے ہیں جس کے بارے میں گذشتہ دہائی میں سنا بھی نہیں گیا تھا۔ لیکن وہ اور ظریف ایک ایسی سیاسی حقیقت میں کام کر رہے ہیں جس میں رہبر اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای، انقلابی گارڈ اور سخت گیر نقطہ نظر کے حامیوں کا ایک طبقہ موجود ہے۔ اس لئے ابلاغ کی نئی راہوں کی کھوج کے ساتھ ساتھ روحانی اور ان کی حکومت محتاط انداز میں پیش رفت کر رہے ہیں۔

کرسٹیان امانپور کے ساتھ سی این این کے انٹرویو میں روحانی نے ہولوکاسٹ کی وضاحت ایک "ایسے جرم کے طور پر کی جس کا ارتکاب نازیوں نے یہودیوں کے خلاف کیا" اور جو "کریہہ اور قابل مذمت" ہے۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے مختلف "پہلوؤں" کے تعین کا کام وہ مؤرخین پر چھوڑتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر یہ غیرجانبدار لگتا ہے لیکن کچھ مبصرین روحانی کے بیان کے دوسرے حصے کے حوالے سے یوں مایوس تھے کہ ان کے خیال میں اس حصے میں روحانی نے یہ عندیہ دیا کہ ہو سکتا ہے کہ ہولوکاسٹ کی دہشت اور خوف کے ضمن میں مبالغہ آرائی کی گئی ہو۔

چند دن بعد اے بی سی ٹیلی وژن کے پروگرام "دس ویک" (This Week) میں ظریف نے تصدیق کی کہ ہولوکاسٹ کوئی مفروضہ نہیں اور آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر اس معنی کا ایک بیان دراصل ترجمے کی غلطی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "ہم معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں خواہ یہ نازی جرمنی میں ہوئی ہوں یا ۔ ۔ ۔ فلسطین میں ہو رہی ہوں"۔ ظریف نے نازیوں کی جانب سے یورپی یہودیوں کے قتل عام کا اعتراف کیا لیکن ایران کے اس دعوے کا بھی ذکر کیا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے سلوک پر تنقید کا رخ موڑنے کے لئے تاریخ کو استعمال کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے روحانی کی طرح ان کے بیان کو بھی ہولوکاسٹ کے حجم اور شدت کو کمتر ظاہر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا۔

یہ دونوں تبصرے اس داخلی پس منظر میں تشکیل پائے ہیں جس میں رہبر اعلٰی اور انقلابی گارڈ ہیں جن میں سے کوئی بھی ہولوکاسٹ کے اعتراف کی طرف راغب نہیں ہے۔

ہولوکاسٹ کے حجم اور شدت پر بات کرنا اکثر لوگوں کو ناراض کر دیتا ہے اور یہ مؤقف مغرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی ایرانی کوششوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ اسی اثنا میں کچھ اسرائیلی راہنماؤں کی طرف سے ہولو کاسٹ کو مغربی کنارے کے جاری قبضے کا جواز ثابت کرنا اور 1967 سے پہلے کی سرحدی لکیروں پر اصرار ہر طور پر غیر مددگار ہے۔ اور اسی اثنا میں جب ایران کو فلسطینیوں کی جدوجہد اور مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری دونوں کے حوالے سے فکر لاحق ہے تو اس کے قائدین کے پاس اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایک ایسا جامع معاہدہ کرانے کی کوششوں کی تصدیق سے بہتر کوئی راستہ نہیں جس کا نتیجہ دو خود مختار ریاستوں (محفوظ اسرائیل اور اپنے وجود کی بقا کے قابل فلسطین) کی شکل میں برآمد ہو جو ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور پر رہیں۔

یہودیوں اور مغرب کو اپنے پیغامات کی صورت میں روحانی اور ظریف نئے راستوں پر لیکن احتیاط کے ساتھ گامزن ہیں۔ اور یہ رویہ قابل فہم ہے کیونکہ ان کے مخاطبین کئی قسم کے ہیں اور ہر ایک کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔ جب وہ اس کثیر النوع دباؤ سے نپٹ رہے ہیں تو ہم مفاہمت کے معانی والے الفاظ سنیں گے اور زیادہ اہم بات یہ کہ ہم ایسے ٹھوس اقدامات تلاش کریں گے جو ان الفاظ کو سہارا دیں۔

لیکن یہ یک طرفہ راستہ نہیں۔

یہ امریکہ، اسرائیل اور بین الاقوامی کمیونٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے انداز میں بات اور عمل کریں جو نئی ایرانی قیادت اور ایرانی عوام کے لئے اپنے ہمسایوں اور دنیا کے ساتھ مفاہمت کی جانب پیش رفت میں مددگار ہو۔ رواں ہفتے جب ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ہونے جا رہے ہیں تو اس سے بہتر موقع نہیں ہو سکتا۔

ایک یہودی امریکی کے طور پر روش ہشانا کے پیغامات پر میں جناب روحانی اور جناب ظریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اور اس عید الضحٰی پر امن اور مفاہمت کی امید کے ساتھ میں انہیں اور ایرانی عوام کو عید مبارک کہتا ہوں۔

###
٭مائیکل فیلسن ایک وکیل اور یہودی تعلیم، ثقافت اور سماجی انصاف کے لئے مختص 110 سالہ قدیم یہودی تنظیم بوسٹن ورکمینز سرکل (Boston Workmen’s Circle) کے صدر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس Common Ground News Service (CGNews). کے لئے لکھا گیا۔

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس ﴿سی جی نیوز﴾، 18 اکتوبر 2013
www.commongroundnews.org
اس مضمون کی اشاعت کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"آپ کو میرے مضامین کی اشاعت کی اجازت حاصل ہے ۔ مجھے ہمیشہ اس نیوز سروس سے خوشی ہوئی ہے."

- جان اسپوزیٹو، جارج ٹاون یونیورسٹی میں پرنس الولید بن طلال سنٹر فار مسلم کرسچین انڈرسٹیںڈنگ کے بانی ڈائریکٹر اور یونیورسٹی پروفیسر
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
سفر امن پر گامزن ہوتے مصری
پشاور اور نیروبی حملوں کے پیچھے کیا وجہ کارفرما ہے؟
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین

سفر امن پر گامزن ہوتے مصری از رندہ غازی
پشاور اور نیروبی حملوں کے پیچھے کیا وجہ کارفرما ہے؟ از ایمبیسیڈر اکبر احمد