منڈیلا کی یاد میں

از سوسن کولن مارکس
09 دسمب 2013
چھاپئے
ای میل
واشنگتن ڈی سی ـ جب ہم اجتماعی طور پر نیلسن منڈیلا کی وفات کا ماتم کر رہے ہیں تو ایک راہنما اور ایک شخص کے طور پر ان کی عظمت کا جشن منانا اور ان کی زندگی پر غور کرنا موزوں معلوم ہوتا ہے۔ ان کی وفات اس دنیا کے لئے ایک نقصان ہے لیکن ان کی روح اس دنیا کے تانے بانے میں اور ہم سب میں موجود رہے گی۔

44 سال کی عمر میں نسلی عصبیت اور امتیاز کی حامی حکومت نے نیلسن منڈیلا کو رابن جزیرے میں 6 فٹ چوڑی اور 9 فٹ لمبی کوٹھری میں قید کر دیا۔ ان کی عمر 71 برس تھی جب 2 فروری 1990 کو انہیں رہا کیا گیا اور میں نے تپتے سورج میں 80000 دیگر لوگوں کے ساتھ کیپ ٹاؤن شہر کے چوراہے میں پورا دن ان کا انتظار کیا۔ اچانک نیلسن منڈیلا وہاں نمودار ہوئے: ایک طویل القامت، مضبوط، مسکراتے ہوئے، خنداں، زہوسا قبیلے کے فرد جن کی آنکھیں رقص کر رہی تھیں۔ اور ہم نے ان کے لئے اپنی بے حد ستائش اور محبت کا اظہار مسرت بھری چیخوں، نغموں اور رقص کی صورت میں کیا۔ انہوں نے ایک ایسے مستقبل کے بارے میں اپنے وژن یعنی بصیرت سے ہماری آنکھیں چندھیا دیں جہاں تمام جنوبی افریقی، سیاہ فام اور سفید فام، اپنے وطن میں مساویانہ طور پر رہیں گے۔ ان کی گرمجوشی اور روح نے ہمارے اندر بسیرا کر لیا اور ہمارے قلوب اور ہڈیوں تک میں اتر گئی۔ جنگ جو رہنما اپنے بزرگانہ اور دانشورانہ روپ میں آ چکا تھا اور اب وہ ہم سب کو اپنے ساتھ "نئے جنوبی افریقہ" کی جانب لے کے جا رہا تھا۔

اس وقت جب شمالی افریقہ اور مشرق وسطٰی کا زیادہ تر حصہ عرب بیداری کے بڑھتے درد سے گزر رہا ہے جس میں بین النسلی تشدد اور طرز حکمرانی کے چیلنج بھی شامل ہیں، تو اس لمحے منڈیلا کی حقیقتاً ناقابل تحدید روح اور انداز قیادت ہم سب کے لئے اور دیگر اقوام کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ روشن کر سکتے ہیں۔

خامیوں اور کمزوری کی پرچھائیوں کے ساتھ مکمل انسان ہوتے ہوئے بھی ان کی ذات میں عظیم قیادت کے مرکزی اجزا اکٹھے تھے۔ کیونکہ انہوں نے اس عمیق صداقت کی تصویر پیش کی کہ ہم اپنی ناکامیوں کے باوجود نہیں بلکہ ان سمیت عظیم ہیں۔ ہم جو کچھ ہیں اس سے مختلف نظر آنے کی کامیاب کوشش نہیں کر سکتے اور دنیا میں آج ہم جو مغلوب رکھنے والی اور بے لچک قیادت دیکھتے ہیں وہ زیادہ تر ذاتی ناکامیوں اور کمزوریوں کے خوف کے مقابلے میں ہتھیار بند صف آرا ہے۔ منڈیلا کی صداقت نے ہمیں سکھایا کہ وہ ہمیشہ اپنے اصلی روپ میں رہتے تھے۔ اپنی گرم مزاجی کے باوجود ان عناصر کے لئے ان کا رویہ ہمدردی اور ترس والا تھا جنہوں نے ان کو مقید رکھا۔ اگرچہ اپنے خاندان کے کچھ لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے میں اپنی عدم صلاحیت پر انہوں نے پچھتاوے کا اظہار بھی کیا۔

وہ تمام جنوبی افریقیوں کے راہنما تھے اور انہوں نے کبھی اس حوالے سے قوس و قزح کے رنگوں پر مشتمل قوم کے اپنے وژن سے اغماض نہیں برتا۔ کلیدی اقدار پر تعمیر کردہ عملیت پسندی کے ساتھ جو مضبوط بنیادوں پر قائم ذاتی اور پیشہ ورانہ اخلاقی ڈھانچے میں صورت پذیر ہوئی، وہ مسائل کو حل کرنے والے ایک حوصلہ مند فرد تھے۔ ان کی تحریک کا منبع ایک ایسا مقصد تھا جو ان کی اپنی ذات سے بڑا تھا اور ان کی موجودگی، آواز اور نظم و ضبط نے دوسروں کو اپنے تصور سے زیادہ بہتر بننے کے لئے تحریک فراہم کی۔

عالمی سطح پر انقلابی تبدیلیوں کے اس دور میں یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ ایک راہنما کے طور پر منڈیلا کیا تھے۔ اس وقت جب ثابت شدہ قدیم اصول و ضوابط اور یقینی امر تہہ و بالا ہو رہے ہیں تو چیلنج یہ ہے کہ محض "اپنے" گروپ، گروہ یا جماعت کے لئے نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے سودمند دنیا کیسے تخلیق کی جائے۔ انہوں نے نہ صرف ہمیں یہ دکھایا کہ اس مقصد کے لئے کیا اور کیسے کیا جائے بلکہ یہ بھی دکھایا کہ راہنماؤں اور شہریوں کے طور پر ہمیں کیا بننے کی ضرورت ہے۔

حال ھی میں جب میں لیبیا میں تھی تو میں نے دیکھا کہ لوگوں میں ایک ایسے قائد کی پیاس ہے جو لیبیا کے شہریوں کو ان کی مشترکہ انسانیت کے ذریعے متحد کر دے۔ سرت میں ایک مقامی راہنما نے حسرت آمیز لہجے میں مجھے بتایا کہ اس ضمن میں جنوبی افریقہ کی کامیابی کا راز منڈیلا تھا اور اس کی خواہش ہے کہ کاش ان کے پاس بھی ایک منڈیلا ہوتا۔

ہمسائے میں مصر کے لوگ بھی ایک ایسے راہنما کی خواہش میں تڑپ رہے ہیں جو ملک کو تشدد اور مسلسل وقوع پزیر ہونے والی تقسیم سے بچا سکے۔ اور شام کے لوگ بھی ایک پر امن حل کی امید رکھئے ھیں۔

جب ہم منڈیلا کی زندگی اور ورثے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم ملکہ وکٹوریہ کے عہد کے برطانوی شاعر ولیم ارنیسٹ ہینلے کی کہی گئی نیلسن منڈیلا کی پسندیدہ نظم اور اس کی ان سطور پر بھی غور کر سکتے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان سطور نے جیل کے 27 برسوں میں ان کو استقامت بخشی۔ اور یہ دو سطریں درج ذیل ہیں:

میں اپنی تقدیر کا مالک ہوں
میں اپنی روح کا ناخدا ہوں

منڈیلا جانتے تھے کہ زندگی ہمیں بہت سے نشیب و فراز دکھائے گی اور یہ ہمارا کام ہو گا کہ ہم ان کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ وہ عفو و درگذر کی قوت سے آگاہ تھے اور انہوں نے نسلی عصبیت کا آغاز کرنے والے ہینڈرک ویروورڈ کی بیوہ بیٹسی ویروورڈ کے ساتھ چائے پی۔ انہوں نے یہ سیکھا کہ محبت کائنات کی سب سے عظیم طاقت ہے اور جنوبی افریقہ کے پہلے جمہوری صدر کے طور پر اپنی افتتاحی تقریب میں اس جیل کے محافظوں کو مدعو کیا جہاں وہ قید رہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ اپنی مشترکہ انسانیت کو گلے سے لگاتے ہوئے اپنے آپ کے ساتھ اور ایک دوسرے کے ساتھ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں۔

میں شکر گذار ہوں کہ میں ان ہزاروں میں سے ایک ہوں جو 1990 کے اس دن ان کے سائے میں کھڑے ہوئے جب وہ ہماری طرف پلٹے اور ہمیں دکھایا کہ ایک نئے جمہوری مستقبل میں کیسے قدم رکھنا ہے جسے ہم سب مل کر تخلیق کریں گے

###

٭ سرچ فار کامن گراؤنڈ کی سینیئر نائب صدر، سوسن کولن مارکس جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی طور پر قابل تکریم معمار امن، مصالحت کار اور مصنفہ ہیں۔ ان کی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب Watching the Wind نسلی امتیاز سے جمہوریت کی طرف سفر کے بارے میں ان کے تجربات پر مشتمل ہے۔ ہیں۔ اس مضمون کی ایک ابتدائی شکل اپریل2013 میں forbes.com میں شائع ہوئی تھی۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس کے لیے لکھا گیا۔
Common Ground News Service (CGNews).

ماخذ: کامن گراؤنڈ نیوز سروس ﴿سی جی نیوز﴾، 09 دسمبر 2013
www.commongroundnews.org
اس مضمون کی اشاعت کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
 
 
 
 
اس ہفتے کی ویڈیو
اس ویڈیو میں کامن گراؤنڈ نیوز سروس کی ٹیم رواں سال کا الحبری پیس ایجوکیشن پرائز  (El-Hibri Peace Education Priz0e)

جیتنے والی خواتین ڈاکٹر بیٹی ریئرڈن اور ہیگ اپیل فار پیس  (Hague Appeal for Peace)  نامی تنظیم کی صدر ان کی دوست کورا ویس کے ساتھ معماران امن کی اگلی نسل کے لئے رہنمائی کے حصول اور یہ جاننے کی خاطر نشست کرتی ہے کہ ایک عام آدمی قیام امن کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ 
 
 
 
 
"مشرق وسطی میں جو مواد سرچ فار کامن گراونڈ کی طرف سے پیش کیا جا تا ہے وہ دانشوروں اور پالیسی سازوں دونوں کے لیے غیر معمولی ہے ۔ اگر کوئی متوازن اور گہرے تجزیے کی تلاش میں ہے تو یہ وہ جگہ ہے جہاں سے اسے موجودہ مشرق وسطی کی پیچیدگیوں کی اچھی تفہیم مل سکتی ہے."

- ڈاکٹر رابرٹ او فریڈمین ، بالٹی مور ہیبریو یونیورسٹی اور جان ہاپکنز یونیورسٹی میں سیاسیات کے پرو فیسر
 
 
 

It takes 200+ hours a week to produce CGNews. We rely on readers like you to make it happen. If you find our stories informative or inspiring, help us share these underreported perspectives with audiences around the world.

Monthly:

Donate:

Or, support us with a one-time donation.

 
 
 
اس ایڈیشن میں دیگر مضامین
 
 
 
 
 
 
 
200+
 
 
# of hours per week to create one edition
 
 
8
 
 
# of editors in 6 countries around the world
 
 
30,000
 
 
# of subscribers
 
 
30
 
 
Average # of reprints per article
 
 
4,800
 
 
# of media outlets that have reprinted our articles
 
 
37,307
 
 
# of republished articles since inception
 
 
6
 
 
# of languages CG articles are distributed in
 
 
2000+
 
 
# of writers since inception
 
 
'

 

اس ایڈیشن میں دیگر مضامین